بنگلورو4/جنوری (ایس او نیوز) میڈیا میں اس بات کا بڑا چرچا ہورہاتھا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی نے اپنے ٹمکورو دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کی طرف سے ریاست کرناٹک کے لئے ریلیف پیکیج کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور کرناٹکا کے مفادات کوپوری طرح نظرا ندازکیا گیا ہے۔
لیکن ایک دن بعد وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا میں جو باتیں پھیلائی گئی ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کے لئے امداد کے ساتھ ریاست کے دیگر مطالبات پورے کرنے کا مکمل یقین دلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اعلیٰ کے طور پر میں نے ریاست کے مسائل اور مزید فنڈ فراہم کرنے کی ضرورت کو وزیر اعظم کے سامنے رکھا۔میں نے سیلاب زدگان کی راحت رسانی کے فنڈ کے علاوہ ریاست کے کسانوں کی پیداوار کے لئے سائنٹفک انداز میں اچھی قیمتیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ آب پاشی کے منصوبوں کے لئے 50ہزار کروڑ کا خصوصی فنڈ بھی طلب کیا ہے۔
ایڈی یورپا نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیر اعظم بہت تیز بصیرت رکھنے والی اور غریب طبقے کے مسائل کے لئے فکر مندر رہنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف ساری دنیا وزیراعظم کی دور اندیشی اورخوبیوں کی ستائش کررہی ہیں وہاں میری تقریر کے پس منظر میں میڈیا کی طرف سے منفی نتائج کرنا بہت ہی ناپسندیدہ رویہ ہے۔
ایڈی یورپا نے صاف الفاظ میں کہا کہ درحقیقت وزیر اعظم نے مجھ سے ذاتی طورپر بات چیت کی ہے اور تمام طرح کی امداد کا یقین دلاتے ہوئے مجھے دہلی میں آکر متعلقہ وزارت سے رابطہ قائم کرنے کے لئے کہا ہے۔اس کے علاوہ مجھے یہاں کے مسائل پر ایک مکمل رپورٹ تیار کرنے کے لئے کہا ہے۔اس لئے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے درخواست کرتا ہوں کہ مسئلے کی غلط ترجمانی کرنے کے بجائے ریاست کی ترقی کے لئے حکومت کو تقویت پہنچائیں۔
حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید وزیر اعلیٰ کو اس قسم کا بیان جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، کیونکہ میڈیا میں کرناٹکا کے مفادات کو نظرانداز کیے جانے کے تعلق سے شائع شدہ رپورٹس سے وزیراعظم کی شخصیت مجروح ہورہی تھی اور حزب اختلاف کو کمان سنبھالنے کا موقع مل رہا تھا۔